حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اہل بیت فاؤنڈیشن کے نائب صدر حجۃ الاسلام مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں خدیجۃ الکبری نامی مسجد میں ہونے والا دھماکہ نہایت افسوسناک، دل دہلا دینے والا اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔ اس سانحے نے نہ صرف وہاں موجود افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا بلکہ پورے ملک اور معاشرے کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دھماکہ محض ایک دہشت گردانہ کارروائی نہیں بلکہ انسانی، اخلاقی اور دینی اقدار کے خلاف ایک سنگین حملہ ہے، جو وفاقی حکومت کی نااہلی اور امن و امان کے قیام میں ناکامی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔
حجۃ الاسلام مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس امر کی واضح گواہی دیتا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال سنگین چیلنجز سے دوچار ہے اور حکومتی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ مساجد اور مقدس مذہبی شعائر کو نشانہ بنانا نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ بنیادی انسانی اقدار کے بھی سراسر منافی ہے۔ ایسے مقدس مقامات پر حملے مذہبی آزادی پر ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دھماکے کے پس منظر میں شیعہ برادری کے خلاف منظم سازشیں اور پاکستان میں موجود دہشت گرد عناصر کی کارفرمائیاں واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ داخلی سلامتی کے حوالے سے فوری، سخت اور فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم یہ سانحہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک مضبوط، مؤثر اور عملی حکومتی حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔
مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی نے کہا کہ جب حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو جائے تو شہریوں کے لیے اپنی حفاظت کے حوالے سے حکمتِ عملی اختیار کرنا ایک ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ وقت باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر، بلا تفریق مذہب و مسلک، اتحاد و یکجہتی کے ساتھ اپنے وطن کی سلامتی اور امن و امان کے لیے کردار ادا کرنے کا ہے۔ ہم اس المناک سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعا گو ہیں اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ